Best Allama Iqbal Poetry in Urdu 2 Lines for Students
Allama Iqbal, widely regarded as the “Poet of the East,” played a crucial role in inspiring the youth through his poetry. His verses are filled with profound wisdom and serve as a source of motivation, particularly for students striving for excellence. His poetry emphasizes self-awareness, the pursuit of knowledge, resilience, and a deep connection to one’s cultural and moral values.
read Allama Iqbal Poetry in urdu 2 lines for students
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
ملے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
ہر شے مسافر، ہر چیز راہی
کیا چاند تارے، کیا مرغ و ماہی
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

Iqbal’s philosophy revolves around the concept of “Khudi” (self-awareness). He urged students to recognize their inner potential and rise above mediocrity. In his famous verse:
“Nahi tera nasheman qasr-e-sultani ke gumbad par, Tu shaheen hai, basera kar paharon ki chatano mein.”
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
دل سوز سے خالی ہے، نگاہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تُو بے باک نہیں ہے
اُمیدِ حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں
Allama Iqbal Poetry in urdu 2 lines for students
جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں، زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
تُو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
This metaphor of an eagle symbolizes the strength, resilience, and ambition that students must embody to achieve greatness. Allama Iqbal poetry in Urdu 2 lines for students often conveys messages of motivation and self-determination.
کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
موزُوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تُجھ سے کام دُنیا کی امامت کا

Allama Iqbal Poetry in urdu 2 lines for students education
اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
کہتے ہيں اسی علم کو ارباب نظر موت
ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی
Iqbal emphasized the pursuit of knowledge and hard work in numerous verses. He viewed education not just as a means of acquiring degrees but as a powerful tool to transform society. He encouraged students to become critical thinkers and apply their knowledge for the greater good.
“Parindon ki duniya ka darvesh hoon main, Ke Shaheen banata nahi aashiyana.”
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارا
اُس جُنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کِیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
نہيں تيرا نشيمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہيں ہے ، بسيرا کر پہاڑوں کی چٹانوں ميں

This verse reminds students of their responsibility toward society and their potential to bring about positive change. Allama Iqbal poetry in Urdu 2 lines for students frequently highlights the importance of leadership and integrity in life.
Allama Iqbal’s poetry continues to be a beacon of light for students, urging them to dream big, work hard, and lead with wisdom and integrity. His verses are not just literary masterpieces but also a guiding philosophy that inspires young minds to strive for excellence. By embracing Iqbal’s message, students can develop a strong character, achieve their goals, and contribute meaningfully to the world.